قصہ پانچ سو بھیڑوں کا

آجکل چونکہ سن ١٩٦٥ کے اہم کرداروں کو خراج تحسین پیش کرنے کا موسم ہے تو اسلئے میں نے سوچا کہ پاکستانی ہم وطنوں کو جنگ ستمگر کے کچھ بہت ہی اہم کرداروں سے روشناس کر واؤں جن کی تفصیل معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان میں نہیں ملتی – یہ گمنام ہیروز ایسے ہیں جن کو نہ کبھی کسی نے جاننے کی کوشش اور نہ ہی ان پر کبھی کوئ پروگرام یا ڈرامہ یا “بیاد بھیڑاں” یا ” ایک شام بھیڑوں کے نام ” جیسی کوئی کاوش کی گئی – تو عزیز ہم وطنو یہ شام بھیڑوں کے نام –

خیر تو تھوڑی دیر کو ان بھیڑوں کو ایک طرف رکھتے ہیں اور آتے ہیں ہاتھی اور بیل کی لڑائی کی طرف – ہاتھی اور بیل کافی صدیوں سے ساتھ رہتے اور ساتھ لڑتے تھے . یعنی ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے تھے – پھر پتا نہی کس نے بیل کو یہ یقین دلا دیا کہ وہ بیل نہیں بلکہ شیر ہے – بیل جسکو پنجابی میں “ٹگہ” کہتے ہیں ، فی الحقیقت ہی پنجابی ضرب المثل والا ٹگہ نکلا اور یہ یقین کر بیٹھا کہ اسکے دو سینگ شیر کہ سامنے والے دو پنجے ہیں جنسے وہ ہر ایک کو چیر پھاڑ سکتا ہے – بیل نے سوچے بنا کہ شیر کہ پاس انتہائی طاقتور جبڑا اور نوکیلے دانت بھی ہوتے ہیں ، پڑوس والے ہاتھی کو سینگ مار ڈالا – ہاتھی نے بیل کو واپس ہنکا کر بھیج دیا – پر بیل جی جو کہ شیر تھے نے پھر سے سینگ دے مارا – اب ہاتھی جی نے ویسا ہی کیا جو کہ زخمی اور بدمست ہاتھی کرتے ہیں – بیل نے شیر بن کر خوب مقابلہ کیا پر کیا کریں کہ جلد ہی بیل کو واپس بیل والی حالت میں آنا پڑا – پر اب مسئلہ یہ تھا کہ ہاتھی نہی رکتا تھا – اب بیل نے کبھی پانڈے کو آواز دی تو کبھی چیل کو اور کبھی ریچھ کو کہ کوئی تو ہاتھی کو روکے – پر ہاتھی تو بدمست ہو چکا تھا تو کون روکے ؟

پھر ہوا یوں کہ پانڈے نے ایک دم شور مچا دیا کہ اسکی پانچ سو بھیڑیں ہاتھی بھگا کر لے گیا ہے اور اگر ہاتھی نے فوراً بھیڑیں واپس نہ دیں تو پانڈا ہاتھی سے لڑائی کرے گا – حالات کو سمجھتے ہوۓ ہاتھی نے فوراً ہی ٥٠٠ بھیڑیں پکڑیں اور پانڈے کے گھر چھوڑ آیا – مگر پانڈے نے بھیڑیں واپس کردیں اور کہا کہ یہ اسکی والی اصلی بھیڑیں نہیں ہیں اور اگر پانڈے کو اسکی اصلی اور نسلی بھیڑیں نہیں واپس کی گئیں تو پانڈا کسی بھی وقت ہاتھی پر حملہ کردے گا اور ہاتھی کا وہی حال کرے گا جو پہلے وہ کر چکا تھا –

اب ہاتھی کا ماتھا ٹھنکا کہ وہ کسی صورت بیل اور پانڈے سے ایک ساتھ نہیں لڑ سکتا تو اسنے لڑائی ختم کردی – پھر اس لڑائی ختم ہونے کی خوشی میں ریچھ نے بیل اور ہاتھی کو اپنے گھر بلا کر پکی دوستی کروا دی – ریچھ کی موجودگی میں بیل اور ہاتھی نے بڑی انگلی اور شہادت انگلی ایک ساتھ ملا کر “دوچھتی” کر لی اور آئندہ نہ لڑنے اور اچھے بچوں کی طرح رہنے کا پکا والا وعدہ کیا- مگر ان پانچ سو بھیڑوں کا آج تک پتا نہ چل سکا کہ وہ کہاں گئیں، زمیں کھا گئی یا آسمان نگل گیا – مگر یہ بات تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائے گی کہ نہ معلوم افراد کی طرح نہ معلوم بھیڑوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوۓ بیل اور ہاتھی کی لڑائی رکوائی – تو عزیز ہموطنو ! ان بھیڑوں کو ہمیشہ یاد رکھنا کہ جن کی عظیم قربانی کی وجہ سے بیل اور ہاتھی کی خوں ریز لڑائی تھمی –

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s