مرغی خانہ

مرغی خانہ

میرے اسکول کے بلکل سامنے ایک بہت ہی جدید قسم کا مرغی خانہ ہوا کرتا تھا- وہاں سے اکثر ٹرک بھر بھر کر چوزے ملک بھر میں سپلائی کئے جاتے تھے – رنگ رنگ کے چوزے دیکھ کر جو مزہ آتا اور دل میں ان چوزوں کو پالنے کی جو خواھش ہوتی تھی، اسکو الفاظ میں بیان کرنا نا ممکن ہے – جب تھوڑی بہت عقل نے کام کیا تو پتا چلا ہمارے ملک میں جگہ جگہ مرغی خانے ہیں جہاں سے رنگ رنگ اور نسل نسل اور قسم قسم کے چوزے پیدا ہوتے ہیں اور وہ بھی پولٹری کے جو فیڈ کھا کھا کر دیکھنے میں تو کافی صحت مند نظر آتے ہیں پر انکے چلنے پھرنے ، اور کھڑا ہونے کی صلاحیت ان چوزوں کو پالنے والے پر ہی ہوتی ہے – انکی آواز بھی بس کبھی کبھی کٹ کٹ جیسی ہی نکلتی ہے وہ بھی تب جب انکو ذبح کرنے کے لئے پکڑا جائے –

پر کبھی پالنے والے اپنے ذھن میں اس فارمی چوزے کو دیسی اصیل مرغے سے لڑائی کروانے کا شوق بھی پال لیتے ہیں تو اسکو تھوڑی تھوڑی عوامی یا دیسی خوراک بھی دے ڈالتے ہیں – پر اسکا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آدھے تیتر اور آدھے بٹیر کا ہوتا ہے – جب بھی دیسی مرغوں سے لڑائی ہوئی اور فارمی چوزے کے مالک کی آنکھ جھپکی وہیں فارمی چوزہ اپنے بال و پر سے بےنیاز دوڑتا ہوا نظر آتا ہے – اور جب مالک ساتھ ہو تو مالک اور فارمی چوزہ کافی اچھے طریقے سے بظاھر دیکھنے والوں کو فتحیاب لگتے ہیں-

اس طرح کے عوامی میلوں اور دیسی بمقابلہ فارمی مرغوں کی لڑائی کا آہستہ آہستہ اثر یہ ہوتا ہے کہ فارمی مرغا اپنے مالک کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے اور خود ہی مختلف عوامی جگہوں پر عوامی خواھشات کے مطابق مقابلے کرتا نظر آتا ہے – اب مالک کی تو روزی روٹی اسی آدھے فارمی آدھے دیسی چوزے کی عوامی لڑائی اور پورے فارمی چوزوں کے گوشت کی سیل پر ہوتی ہے تو مالک کسی نہ کسی بہانے اس آدھے فارمی آدھے دیسی ککڑ کی کڑاہی بنا کر کھا جاتا ہے اور لوگوں کہ پوچھنے پر کہتا ہے ” ہونڑ اے ویڑے کٹ، تے گوانڈیاں تی بنیر تے بوہتا جاندا اے تے نالے جیویں مسجد اچ اذان پیندی اے تے اے وی بانگاں شروع کر دیندا سی ” مطلب یہ کہ اب یہ اپنے گھر کم اور پڑوسیوں کی دیوار پر زیادہ نظر آتا ہے اور ساتھ ہے عین اذان کے وقت بانگیں دیتا ہے – اور اسکے بعد پھر سے ایک بار یہی ترتیب دوہرائی جاتی ہے اس امید پر کہ نتیجہ مختلف نکلے گا پر ہمیشہ کی طرح آدھا فارمی آدھا دیسی فل دیسی بننے کی ٹرائی کرتا اور مالک اسکی کڑاھی کھاتے –

اب ان پچھلی سطور کو بھول کر آگے پڑھیں – کسی بھی قسم کی مماثلت تلاش کرنے کی کوشش مت کریں اور اگر مل بھی جائے تو وہ محض اتفاقیہ ہو گی –

پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی، صوبائی ایوان، اور ریاستی درباروں ، میں ہر دو طرح کے اشخاص تھے ، وہ جو عوام کی نبض پر ہاتھ رکھتے تھے ، وہ جو تاج برطانیہ کی مہربانی سے ان ایوانوں کا حصّہ تھے اور وہ بھی جو براہ راست کسی شخص کی عنایات یا کرم کی وجہ سے یہاں ممتکن تھے – اس طرح عوامی اور غیر عوامی نظریات کی حامل شخصیات کا ٹکراؤ شروع ہوا – اسی ٹکراؤ کی وجہ سے جو خلاء پیدا ہوا اسکو میجر جنرل اسکندر مرزا نے پہلی فوجی حکومت سے پر کرنے کی کوشش کی – اور اسی دوران ایک نئی قسم کے سیاسی رہنماؤں کی پیداوار شروع ہوئی – “ترمیم شدہ عوامی رہنما ” – اور اس سلسلے کی پہلی کامیاب شخصیت تھی جناب ذوالفقار علی بھٹو – بھٹو صاحب وہ پہلے “ترمیم شدہ عوامی رہنما ” تھے جنکی تربیت میجر جنرل اسکندر مرزا اور فیلڈ مارشل ایوب خان کی فوجی حکومتوں کے دوران ہوئی – پاکستان کے طاقت کے مرکز میں ذوالفقار علی بھٹو کو میجر جنرل اسکندر مرزا نے متعارف کروایا جب اسکندر مرزا نے ذوالفقار علی بھٹو کو وزیر صنعت و پیداوار مقرر کیا –

کہتے ہیں کہ بھٹو صاحب ایک جدی پشتی جاگیردار خانوادے سے تعلق رکھتے تھے، امریکا میں تعلیم حاصل کی اور وہ اس زمانے سے تھے جہاں پرورش پانے والے اکثر تیسری دنیا کے نوجوان تاج برطانیہ کے زوال اور روس و امریکا کے عروج سے کافی ساری آزادیوں ، انسانی رواداریوں ، اور انصاف کی علمبردار نئی دنیا اور بہترین باہمی احترم پر مبنی معاشرے کے قیام کو بس کچھ ہی برسوں کی بات سمجھتے تھے – جب کہ مسلم دنیا کے اسوقت کے حمکرانوں کی اولادیں اور کسی بھی قسم کے جمہوری اسلامی ملک کی نوجوان سیاسی قیادت اسلامی نشاط ثانیہ کے خواب دیکھتیں تھیں – پچاس کی دہائی کے آخر میں طاقت کے کھیل میں داخل ہونے والے بھٹو کی ذہنی نشونما میں اس وقت کی مندرجہ بالا نفسیات اور امریکا میں دوران پڑھائی گزرے شب و روز کا بہت گہرا اثر تھا – امریکا میں وہ پڑھائی کے علاوہ کیا کچھ کرتے رہے اس کے لئے اسٹینلے ولپرٹ کی کتاب پڑھ لیں کیوں یہاں بیان کرنا کسی طور کی تدوین کے باوجود بھی محض ******* ****** ****** کے علاوہ کچھ نہی ہوگا – ویسے دروغ بر گردن ولپرٹ، امریکا میں بھٹو صاحب کا شراب اور خواتین کا کوئی مقابل دور تک، بلکہ شیل کے ایک پرانے اشتہار کی ٹیگ لائن کے مطابق، کوئی مقابل نہی دور تک بلکہ بہت دور تک، نہیں تھا – ان سب کے علاوہ انکے بچپن سے لڑکپن تک کی ایک جاگیرداری نشونما ہمیشہ لا شعوری طور پر انکی شخصیت کا خاصا رہی – طاقت کے کھیل کے ازلی اصولوں کے مطابق اسکندر مرزا سے لے کر ڈیڈی ایوب خان تک اور پھر عظیم ایرانی النسل یحیی خان تک پارٹنر شپ کی اور آہستہ آہستہ عوام میں جڑیں گہری کرتے ہوۓ بلآخر وزیر اعظم بن بیٹھے-

اب عوامی رہنما چاہے خالص اور اصیل ہو یا پھر فوجی ادوار میں حکومتی امور کا تجربہ پانے والا ترمیم شدہ عوامی رہنما، اسکو بہر حال عوامی باتیں اور عوامی خواب دکھانے پڑتے ہیں اور عوام میں جانا اور رہنا پڑتا ہے – یہاں سے وہ توازن بگڑ جاتا ہے جس اصل مقصد کے لئے ایسے ترمیم شدہ عوامی رہنما تخلیق کئے جاتے ہیں – اور ترمیم شدہ عوامی رہنما بھی اپنی اصل سے ہٹ کر فل عوامی بن جانے کی کوشش کرتے ہیں ، پر اس خواھش کے زیر اثر مکمل خودمختاری اور حکمرانی کی انمٹ خواھش ہوتی ہے کہ ظالم چھٹتی نہیں کافر منہ کو لگی – اس توازن کے بگڑتے ہی ترمیم شدہ عوامی رہنما کی طاقت کے باقی کھلاڑیوں سے اقتدار کی جنگ شروع ہو جاتی ہے – اسی طرح اچانک ہی بھٹو صاحب کے خلاف بھی ملک بھر میں احتجاج شروع ہوگیا اور اس احتجاج کا اختتام جنرل محمد ضیاء الحق کے فوجی اقتدار اور پاکستان کی تاریخ کے دوسرے “ترمیم شدہ عوامی رہنما” کی پروڈکشن پر منتنج ہوا – پاکستان ترمیم شدہ عوامی رہنما پروڈکشن فیکٹری کی اگلی پروڈکٹ تھی میاں محمد نواز شریف! میاں صاحب ایک صنعتی گھرانے سے تھے اور سیاست کی الف بے بھی نہیں جانتے تھے- انکو پاکستان کے طاقت کے مرکز میں متعارف کروانے والے تھے جنرل محمد ضیاء الحق- میاں صاحب کی ٹریننگ بھی ضیاء صاحب کے فوجی دور حکومت میں ہوئی اور ٹریننگ مکمل ہو کر وہ پنجاب کے وزیر آعلی بنے –

جناب میاں محمد نواز شریف لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی خان کی حسن نظر کا انتخاب تھے – لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی خان نے میاں صاحب کو سب سے پہلے پنجاب ایڈوائزری بورڈ کی رکنیت نوازی اور پھر جلد ہی اچھی پرفارمنس کی بنیاد پر پنجاب کے وزیر خزانہ بنا دئیے گئے – کاروباری طبقے سے تعلق کی بنا پر میاں صاحب نے جنرل ضیاء اور لیفٹیننٹ جنرل جیلانی سے ایسی پالیسی منظور کروایں جو کاروباری اور صنعتکار طبقے کے لئے سود مند ثابت ہوویں – علاوہ ازیں ستر کی دہائی میں قومیاۓ گئے اداروں کی واپسی میں بھی جناب نواز شریف کا کافی عمل دخل تھا – میاں صاحب کی انھیں پالیسیز کی وجہ سے ١٩٨٠ میں پنجاب کی ترقی کا وہ عمل شروع ہوا جو آج تک جاری ہے اور پنجاب ایک زرعی صوبے سے صنعتی صوبے میں تبدیل ہوتا گیا- کسی بھی کاروباری آدمی کی طرح نواز شریف کی پہلی اور آخری کوشش کاروباری اور صنعتی ترقی تھی – جس کی بنیاد کسی بھی کاروبار کرنے والے آدمی کی طرح منڈیوں تک آسان رسائی ، خام مال کی دستیابی اور غیر ضروری افرادی قوت میں کمی تھا – یہ تین بنیادی اجزاء میاں نواز شریف کی ہر پالیسی کا محور رہے – ١٩٨٥ میں میاں صاحب پنجاب کے وزیر اعلیٰ چنے گئے – گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل جیلانی اور میاں صاحب نے پنجاب کی ترقی کی جو بنیاد رکھی وہ باقی صوبوں کی نسبت آج بھی کافی بہتر ہے – اسی طرح مختلف مرحلوں سے ہوتے ہوۓ میاں صاحب مختلف جنرلوں کی عنایات کی بدولت (تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہوں اصغر خان کیس اور مہران بنک اسکینڈل ) بلآخر ١٩٩٠ میں پاکستان کے وزیر آعظم لگا دئے گئے-

پاکستان ترمیم شدہ عوامی رہنما پروڈکشن فیکٹری کی یہ پروڈکٹ بھی پچھلی پروڈکٹ جناب ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ثابت ہوئی – میاں صاحب کو بھی وہی شوق اٹھا جہاں سے لفظ ترمیم شدہ کو ہٹا کر صرف عوامی رہنما کی جڑیں نکلتی ہیں – لہٰذا کسی بھی فیل ہوجانے والی پروڈکٹ کی طرح میاں صاحب کو بھی عوامی مارکیٹ سے اٹھا لیا گیا اور یوں آغاز ہوا پاکستان میں چوتھے فوجی دور حکومت کا – اپنے سابقہ جنرلوں کی روایت کو جاری رکھتے ہوۓ جنرل پرویز مشرف نے بھی اپنے اقتدار کو دوام دینے کے طریقے ڈھونڈھنے شروع کر دئے جبکہ دوسری طرف فیکٹری کے کرتا دھرتا نے فیکٹری کے پروڈکٹ مینیجر کو ایک نئی پروڈکٹ کی تیاری اور لانچ کا حکم دیا – مگر اس بار تنبیہ کردی کہ پروڈکٹ میں حفاظتی پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ یہ پروڈکٹ پچھلی دو پروڈکٹ کی خامیوں سے مبرا ہو اور فل عوامی بن جانے کی صلاحیت کم سے کم رکھے – پاکستان ترمیم شدہ عوامی رہنما پروڈکشن فیکٹری کے مینیجرز پر ایک بھاری ذمہ داری آن پڑی تھی – بہرحال فوراً ہی پاکستان ترمیم شدہ عوامی رہنما پروڈکشن فیکٹری کی تیسری پروڈکٹ پر کام شروع کر دیا گیا –

اب کی بار کسی ایک پروڈکٹ کی بجایۓ مارکیٹ میں موجود مختلف پروٹوٹائپ پر کام شروع کیا گیا -یہ سب پروڈکٹس مختلف اقسام کی مارکیٹس اور مختلف قسم کے کنزیومر کی ڈیمانڈ کے مطابق تخلیق کئے گئے تھے – ان میں مشہور پروٹوٹائپ میں دوافراد مذہبی، دو افراد ایک بڑے ثقافتی حصے کے نمائندہ، اور کچھ افراد ایک مخصوص پارٹی کے بھی شامل تھے – ان کے علاوہ کچھ امپورٹڈ اور کچھ دوسری چھوٹی چھوٹی فیکٹریز کے پروڈکٹس کو بھی نیو پروڈکٹ لانچ اسٹڈی میں شامل کر لیا گیا – ان میں مشہور پروڈکٹ تھی عمران خان – کافی کوشش اور تجربے کرنے کے بعد سلیکشن کمیٹی نے ایک امپرٹڈ پروڈکٹ، عمران خان، ایک مذہبی پروڈکٹ اور ایک بڑے ثقافتی حصے کی پروڈکٹ کو لانچ کے اگلے فیز میں لیجانے کا فیصلہ کیا – پاکستان ترمیم شدہ عوامی رہنما پروڈکشن فیکٹری کی ایک ٹیسٹ پروڈکٹ کو پنجاب، ایک کو خیبر پختون، اور ایک کو پورے پاکستان میں لانچ میں کیا گیا – سب کچھ ٹھیک جا رہا کہ اچانک مشرف صاحب کی نظر چوہدری افتخار صاحب پر پڑی اور پھر آنکھوں میں روشنی نہ رہی – مارکیٹ کے حالات ایک دم اس تیزی سے بدلے کہ ایک ایمرجنسی پروڈکٹ کو مارکیٹ سنبھالنے کے لئے نکالنا پڑا – یہ ایمرجنسی پروڈکٹ تھی سردار آصف علی زرداری بھٹو – یہ ایسی تباہ کن پروڈکٹ ثابت ہوئی کہ پروڈکشن فیکٹری کو اپنی پروڈکشن خطرے میں پڑتی ہوئی نظر آئ اور جو جو پروٹوٹائپ مارکیٹ میں لانچ کئے گئے تھے وہ بری طرح ناکام ہوگئے – ایمرجنسی پروڈکٹ نے جس تیزی سے مارکیٹ کیپچر کی تھی، اس مارکیٹ ڈومینینس کو ختم کرنے کے لئے ایک پرانی پروڈکٹ نواز شریف کی ریلانچنگ کی گئی اور ایک نیا پروٹوٹائپ عمران خان مارکیٹ میں متعارف کروایا گیا – نواز شریف صاحب کچھ عرصے تک تو ترمیم شدہ بن کر کام کرتے رہے مگر پھر فوراً ہی فل عوامی موڈ میں جاتے دکھائی دئے – اس سے پہلے کہ شریف صاحب مارکیٹ پوری اٹھا لیتے ،پاکستان ترمیم شدہ عوامی رہنما پروڈکشن فیکٹری نے اپنے نئی پروڈکٹ عمران خان کا زبردست روڈ شو کروایا جس کی بنا پر نواز شریف کی مارکیٹ کم ہوگئی –

عمران خان نام کی پروڈکٹ پھچلی تمام پروڈکٹس سے اس لحاظ سے مختلف اور کافی حفاظتی اصولوں والی تھی کہ پچھلی پروڈکٹس چاہے وہ قومی سطح پر لانچ کئے گئے ہوں یا علاقائی (علاقائی پروڈکٹس کی تفصیل پھر کبھی دی جائے گی ) ان تمام پروڈکٹ کا اپنا کافی اچھا اور بڑا عوامی ، خاندانی یا کاروباری نیٹ ورک تھا جس کی بنا پر وہ پروڈکشن فیکٹری کی گائیڈ لائنز سے ہٹ کر فل عوامی بن جانے کی کوشش کرتے رہتے تھے – عمران خان ان تمام نقائص سے پاک تھے ، عمران خان نہ تو کاروباری طبقے سے تھے اور نہ ہی عوام میں کسی بھی طرح کا حلقہ اثر رکھتے تھے – محترم خان صاحب پچھلی پروڈکٹس یعنی بھٹو صاحب اور میاں صاحب کی بر عکس عمر رواں کے اس حصے میں تھے جس عمر میں کچھ بھی حاصل کرنا بہت کچھ حاصل کرنا سمجھا جاتا ہے- لہٰذا خان صاحب اس نقص سے بھی مبرا تھے جو اکثر ٣٠ (تیس) سال کی عمر والے لوگوں میں پایا جاتا ہے کہ مزید کچھ کیا جائے – جہاں بہت کچھ بھی کم ہوتا ہے اور انسان آگے کی سوچتا ہے اگے بڑھنے کی جستجو اور ستاروں سے اگے کے جہاں کھوجنے کی لگن ہوتی ہے – ساٹھ (٦٠) کی دہائی میں قدم رنجہ جناب عمران خان تیس سال کی عمر میں طاقت کے کھیل میں شامل ہونے والے بھٹو صاحب اور میاں صاحب والی ان برائیوں سے بھی پاک تھے – فیکٹری کے پروڈکٹ مینیجرز کے خیال میں یہ پروڈکٹ صرف اور صرف آعلی مرتبے کے حصول پر ہی شاداں و فرحاں رہی گی – اس لئے پروڈکٹ مینیجرز کے خیال میں اس پروڈکٹ میں فل عوامی بن جانے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں – پاکستان ترمیم شدہ عوامی رہنما پروڈکشن فیکٹری کی تیسری پروڈکٹ، جن کو مختلف افراد کی راۓ کے مطابق جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم بنانے کا خیال ظاہر فرمایا تھا اور اخباری اطلاعات، جاوید ہاشمی و دیگر سیاست دانوں کے بیانات کے مطابق کچھ مزید افراد نے ڈیولپ کیا ، فل حال مارکیٹ ٹیسٹ فیز میں ہے –

ان پاکستان وائڈ پروڈکٹس کے علاوہ مختلف علاقائی، مذہبی ، اور تہذیبی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوۓ پاکستان ترمیم شدہ عوامی رہنما پروڈکشن فیکٹری کی اور بھی مشھور پروڈکٹس ہیں جن کی تفصیل پھر کبھی –

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s