ایف اے پاس دانش پھوڑ سے مکالمہ

یہ جاتی سردیوں کے جاتے ستمگر کی ایک سہانی شام کا وقت ہے کہ میری ملاقات ایک گانے بجانے کی محفل میں عزت مآب جناب ایف اے پاس دانش پھوڑ صاحب سے ہوئی – وہ بیحد اداس، غمگین اور رنجیدہ دکھ رہے تھے – میں کچھ سمجھ نہ پایا کہ جانے انکو کیا ہوا – پہلے سوچا کہ کسی نے کوئی رپٹ وغیرہ کرا دی ہوگی – مگر فوراً ہی اس شیطانی خیال پر لاحول پڑھا کہ توبہ توبہ کس مقدس شخص کے بارے میں ایسا سوچ رہا ہوں – پھر جب کیلنڈر پر نظر ڈالی تو ایک ایسی تاریخ دیکھی جو ہم لوگوں نے پچھلی کئی دہائیوں سے بھلا رکھی ہے – دل میں آیا کہ شاید دانش پھوڑ صاحب اپنے اسلاف کے کارناموں کی وجہ سے افسردہ ہیں – مگر دل کو ایک چماٹ فوراً سے غیر استمعال شدہ دماغ نے مارا اور بولا ” ابے گدھے پھچلے چالیس سالوں سے دانش پھوڑ صاحب اپنے اسلاف کے کارناموں کے گن دوسروں سے مترنم سروں سے زبردستی گوا رہے ہیں تو افسوس کاہے کا ہوگا ؟؟؟؟؟” ہ

خیر ہمت کر کے ان کے قریب گیا تو حضور کے لب ہل رہے تھے – آنسو ٹپ ٹپ ٹپ گر رہے تھے کافی کوشش کر کے سنا تو کچھ ایسے الفاظ تھے ” نہیں چھوڑیں گیں انکو انکے گھر جا کر ماریں گے میدان سے بھاگنے والے نہیں ہیں ہم ” اور پھر تھوڑا جذبات تھمے تو کچھ یوں ارشاد فرمایا ” مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے ھآۓ وہ تو معصوم تھے پڑھنے گئے تھے ظالموں نے انکو بھی نہ چھوڑا – میرے بچے – مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے -” ہ

انتہائی قابل احترم دانش پھوڑ صاحب سے دس بدستہ جان کی امان چاہتے ہوۓ پوچھا کہ حضور ہوا کیا ؟ ماجرا کیا ہے ؟ بولے ” یو بلڈی ڈاکٹر وائے یو نو نو ہیپنڈ وٹ ٹو دی نیشن؟” عرض کی میری انگریزی کمزور ہے آپ تو رائل کالج کے پڑھے ہیں اردو میں ارشاد فرمایں- کہتے میرے بچے اسکول گئے تھے ، ہماری یونیورسٹی کے کچھ فارغ التحصیل باغی سٹوڈنٹس نے اپنی الگ سے یونیورسٹی بنا ڈالی اور وہاں سے جعلی ایف اے پاس لوگوں کی ایک یونین بنا ڈالی – انہی باغی لوگوں نے میرے بیٹے کے اسکول میں نقلی میڈیکل کیمپ لگایا اور دو نمبر ادویات اور انجکشن لگا کر نا معلوم کتنے معصوم پھولوں کو اپنی شیطانیت کے بھینٹ چڑھا ڈالا – ہ

اوہ یہ تو بہت برا ہوا مگر حضرت یہ لوگ تو پچھلے قریب تیس یا چالیس برس سے ایسا ہی کر رہے ہیں اگر آپکو یاد ہو تو آپ کے دادا حضور نے ہی انکو” طب و جراحت ” کی اعلی تعلیم دی پھر انکے کو پریکٹس کے لئے پڑوسیوں کے گھروں میں بھیجا بلکہ پوری دنیا میں جگہ جگہ آپکے والد اور دادا حضور انکو بھیجتے تھے – ہر ایک آپکو، آپکے والد اور آپکے دادا حضور کو بتاتا رہا کہ ایک دن یہ آپکو ہی کھا نا شروع کردیں گے پر حضور آپ نہ مانے – آپ نے ہر کسی کو اپنا دشمن ————–ہ

خاموش ہوجا ——— شٹ اپ ——– دانش پھوڑ صاحب جلال میں آگئے ——- تم لوگ ہی ہو جو غیروں کہ آلہ کار ہو – زعفرانیوں کے ایجنٹ، داؤدیوں سے پیسے لینے والے ، بیغیرت، صحت دشمن ،……..ہ

دانش پھوڑ صاحب نے اپنے ہم وطنوں کی روایت کے عین مطابق بولنا شروع کردیا ٠٠٠٠٠٠ہ

خیر آگے بڑھنے سے پہلے حضور دانش پھوڑ ایف اے پاس صاحب کا تعارف کروا دوں – پھوڑ جی بچپن سے ہی لڑائی بھڑائی میں یکتا تھے محلے کے ہر پڑوسی کے بچوں کو مارنا پیٹنا عادت تھی اور جب جوابی پٹائی لگتی تو فوراً گھر کو بھاگتے –چپٹی سی ناک والی امی اور اپنے دیہاتی ابو کی گود میں چھپ جاتے – جب انکے والدین محلے والوں سے بیچ بچاؤ کروا دیتے تو یہ اپنے والدین کو بزدل اور ڈرپوک کہتے مغلظات بکتے – اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو بیٹھا کر کہتے کہ دیکھا سالے کے کیسا مارا پیٹ پر ایسا گھونسا مارا کہ بس لیٹ ہی گیا تھا- پر تھا نہ مکر والا میں سمجھا کہ مر گیا، پر اس نے اٹھ کر میری مار لگا دی میں تو اور مارتا اسکے پر امی ابو میں ذرا بھی تپڑ نہی ہے فوراً ہی اسکے ساتھ صلح کرلی – حضور کا جسم اس طرح کے زخموں سے بھرا ہوا تھا – ایک ٹانگ اور ایک ہاتھ آول عمر میں پڑوس کے ساتھ لڑائی میں کٹوا چکے تھے – ویسے در حقیقت اس ہاتھ پیر کی علیحدگی میں پڑوس کی لڑائی سے زیادہ حضور کی اپنی سلف میڈیکیشن کا زیادہ ہاتھ تھا – اس کے علاوہ بھی لاتعداد نشان تھے ہ

ایک بار انکی والدہ محترمہ کی انگلی پر ٹماٹر لگ گیا – حضور دانش پھوڑ صاحب اسکو زخم سمجھ بیٹھے اور بضد ہو گئے کہ پٹی کروائی جائے اور حضور سے ہی کروائی جائے – ماں آخر ماں ہوتی ہے اسلئے اس انوکھے لاڈلے کی ضد کے اگے بےبس ہوتے ہوۓ اس سے ٹماٹر والی انگلی پر پٹی کروا لی – اب حضور خود کو ماہر سرجن اور ڈاکٹر سمجھنے لگے اور ہر ایک سے ہر طور سے خود کو ڈاکٹر کہلواتے – حضور کی “ڈاٹکری” کا رجحان دیکھتے ہوۓ انکو میڈیکل میں ڈالنے کا فیصلہ کیا مگر حضور کے ایف اے میں صرف پینتالیس فیصد نشان آے- حضور کی جراحت کی صلاحیت اور منفی کے کسی درجے پر موجود آئ کیو لیول کو دیکھتے ہوۓ حضور کو ابتدائی طبی امداد مطلب فرسٹ ایڈ کی تربیت دلوائی گئی – یہ دن حضور کی زندگی میں ایک نۓ دور کا آغاز تھا – حضور نے خود کو ایف اے پاس کہلوانا شروع کر دیا -ہ

کیوں کہ انکا کام فرسٹ ایڈ کا تھا تو اسلئے موج بڑھے یا آندھی آۓ ، بم پھٹے یا زلزلہ آۓ حضور کو ہی جانا ہوتا تھا لال بتی میں بیٹھ کر – بس حضور نے خود کو مسیح ثانی سمجھنا شروع کر دیا – حضور کا دماغ تو پہلے ہی ساتویں آسمان پر تھا اب جب طب و جراحت سے نا بلد لوگ انکو ہر جگہ سب سے پہلے اور سب آگے دیکھتے تو انکو ہی اپنا ماویٰ و ملجا سمجھنا شروع کردیا ، تو حضور کا دماغ عرش پر پہنچ گیا – جب انٹرنیٹ اور فیس بک کا زمانہ آیا تو حضور نے کسی ملٹی نیشنل کپڑے دھونے کے سرف کی طرح اپنی بھرپور مارکیٹنگ کو بام عروج تک پہنچا ڈالا اور اب ہر اچھے اور ماہر سرجن کو دھمکاتے ہیں ہر اچھے ہسپتال کو اپنے ٹیہکے میں رکھتے ہیں اور اگر کوئی چوں چان کرے تو ہسپتال پر قبضہ بھی کرنے سے نہی چوکتے – حضور کی ماس مارکیٹنگ کہ کچھ اہم پہلو :ہ

١) حضور ہر پلیس آف ڈیوٹی پر اپنی سیلفیاں لیتے ہیں

٢) حضور سیلفی کے ساتھ ایسے الفاظ ضرور لکھتے ہیں ” سرجن ٹوکا قصائی انتہائی مشکل حالت میں مریض کی ہڈی جوڑتے ہوۓ”ہ

٢) ایک عمارت میں آگ بھجانے گئے تو وہاں کی سیلفی کا کیپشن تھا ” برنس وارڈ کے ماہر کاسمیٹک سرجن جناب چمڑی بدل جلے ہوۓ مریض کی جلد ٹھیک کرتے ہوۓ”ہ

٣) ایک روڈ ایکسیڈنٹ پر گئے تو وہاں ایک شخص کی سر کی پٹی کرتے ہوۓ سیلفی پر تحریر کیا ” ماہر امراض دماغ و مشہور سرجن جناب عقل دماغ کامیاب برین سرجری کرتے ہوۓ”ہ

٤) حضور اکثر بوڑھے اشخاص کے ساتھ بھی سیلفیاں لیتے اور پھر انکے نیچے ایسے الفاظ تحریر فرماتے ” الله تجھے سلامت رکھے ، ہماری صحت کے رکھوالے تجھ پر سلام ، ہماری جان بچانے والے قوم کے حقیقی سرجن کے لئے ایک لاکھ لائک تو بنتے ہیں “ہ

٦) حضور اکثر میڈیکل کانفرنسز کی پکچرز بھی اپ لوڈ فرماتے جنکا کیپشن کچھ ایسے ہوتا

ایک انٹرنشنل اسکن کانفرنس جو کے کسی مشھور ہوٹل میں ہوئی اسکی تصویر یوں اپلوڈ کی “ماہر امراض جلد ڈاکٹر چمڑی والا سخت گرمی میں مریض کا علاج کرتے ہوۓ”ہ

یورپ کے ایک مشھور شہر میں ہونے والی دماغی امراض کی کانفرنس کے بارے میں فرمایا “مشھور نیورو سرجن جناب نیورون روڈ ایکسیڈنٹ کے مریض کے دماغ کا آپریشن کرتے ہوۓ”ہ

٧) انکی ہر اپلوڈ کے نیچے ایک جملہ ضرور ہوتا ” آپکا مخلص کون ؟ ہر جگہ آپکے ساتھ آپکے پاس سب سے پہلے پہنچنے والا یا ایئر کنڈیشنڈ تھیٹر میں آپریشن کرنے والا ؟”ہ

اسکے ساتھ ساتھ حضور اکثر اسپتال والوں سے اپنے اور اپنے بچوں کے لئے علیحدہ بڑے بڑے لیونگ ریزیڈنشیا بنواتے – اسکول اور مفت کی طبی سہولتیں الگ تھیں – اسپتال والے بھی مجبور تھے کہ ابتدائی طبی امداد کے لئے بہر طور حضور اور حضور جیسے ابتدائی طبی امداد والوں کو ہی جانا ہوتا تھا – اس پر مستزاد حضور ہر ایک پر احسان الگ جتاتے کہ دیکھو ہم ہی ہیں جو جان ہتھیلی پر رکھ کر تم لوگوں کو موت سے بچاتے ہیں اور ڈاکٹرز و سرجنز کو دھمکاتے کہ تمہارے عالیشان ہسپتال ہماری وجہ سے ہیں اگر ہم فرسٹ ایڈ نہ دیں تو کوئی مریض نہ بچے اور تم لوگ بھوکے مرو -ہ

حضور کی دانش پھوڑ اشتہاری مہم کا نتیجہ یہ نکلا کہ اکثر سادہ لوح افراد کی رہی سہی دانش بھی کسی ٹی وی پر آنے والے ڈاکٹر بیوقوف جیسی ہوگئی – اور لوگوں نے حضور سے درخواست کی کہ حضور ایک میڈیکل و سرجیکل یونیورسٹی کھول کر لوگوں کو طب کی اعلی تعلیم مرحمت فرمایں- میڈیکل اور سرجری کی شد بد رکھنے والوں نے لوگوں کو سمجھایا کہ حضور کی یونیورسٹی سے نکلنے والے صرف آپ لوگوں کا ہی خوں کریں گے پر لوگ نہ سمجھے – اور یوں حضور کی یونیورسٹی مزید لگاتار دانش پھوڑ فرسٹ ایڈ پاس یعنی، ایف اے پاس دانش پھوڑ، مارکیٹ میں دھڑا دھڑ پھیکنے لگی اور جگہ جگہ عطائی مطب کھول کر لوگوں کی زندگی سے کھیلنا شروع کردیا – غریب لوگ حضور کی لازوال اور بے مثل مارکیٹنگ کی وجہ سے اصل ہسپتال اور ڈاکٹروں کے خلاف ہوگے – ہ

در اصل حضور کا طریقہ بھی بہترین تھا – حضور اور حضور کہ فارغ التحصیل دانش پھوڑ پوری تندہی سے مریض کو موت کے منہ تک پہنچاتے اور جب مرنے والا ہوتا تو ہسپتال یا کسی ڈاکٹر کے بھجوا دیتے جہاں یا تو مریض مر جاتا یا پھر اسکا کوئی نہ کوئی عضو ناکارہ ہو جاتا – اور ایسا ہمیشہ ہوتا تو حضور فرماتے دیکھا میں نے تو کہا تھا کہ یہ قصائی ہیں جب تک میرے پاس تھا زندہ تو تھا نا ؟ جب تک میرے پاس تھا ٹانگ سڑ کر کالی ہوچکی تھی پر ٹانگ تو تھی نا ؟ اور جاؤ سرجن کے پاس نتیجہ دیکھا ٹانگ سے گئے – حضور ایسے ہی کامیابی سے لوگوں کے بچوں کو مارتے اور مرواتے رہے پھر یوں ہوا کہ حضور کے فارغ التحصیل طالبعلموں نے اپنی الگ یونیورسٹی بنا لی اور اپنے کلینیک بھی الگ کر لئے – حضور نے انسے علاقے کی بنیاد پر شیئرنگ کرلی – اور لوگوں کا اسی طرح بے موت مرنا جاری رہا – مگر حالات یوں ہوۓ کہ حضور کہ طالبعلموں نے مزید علاقے مانگنا شروع کردئے – حضور نے جز بز کی تو کچھ فارما کمپنیوں نے حضور کے طالبعلموں کی سرپرستی شروع کردی – حضور نے کچھ طالبعلموں کی ڈگریاں منسوخ کردی اور کچھ کی دانش پھوڑنے کی اجازت بحال رکھی – ان طالبعلموں نے اب جگہ جگہ مفت طبی کیمپ لگانا شروع کردئے اور تعلیمی ادارے انکی بہترین دسترس میں تھے – اور بیچارے غریب اور سادہ لوح لوگ مرتے رہے – حضور کو بتایا گیا تو حضور کمال بے نیازی سے کہتے یہ تو اچھے والے ہیں کچھ نہیں ہوتا – اور پھر یوں ہوا کہ ایک دن انہی طالبعلموں نے حضور کے بچوں کے اسکول میں اپنا کیمپ لگا لیا – حضور کے طالبعلموں نے حضور اور حضور کے بھائیوں اور رشتےداروں کے بچوں کو بھی وہی دوا دی جو وہ ہر کسی کو دیتے تھے – نتیجہ وہی نکلا کہ حضور کے بچے بھی ویسی ہی المناک موت سے دوچار ہوۓ جس سے باقی لوگ اور آس پڑوس کے لوگوں کے بچے ہوتے تھے – جب حضور کے اپنے بچے مرے، تب حضور کا ماتھا ٹھنکا ، اور حضور نے کسی حد تک نیم رضامندی کے ساتھ اپنے طالبعلموں کی ڈگریاں منسوخ کرنے کا عمل شروع کیا –ہ

خیر یہ تو تھا حضور اور حضور کے دانش پھوڑ کارناموں کا تعارف تو واپس چلتے ہیں حضور سے مکالمے کی جانب

خیر حضور کو حلال مشروب پلا کر انکا غم کچھ غلط کیا تو حضور سے انکی بہکی بہکی باتوں کا مطلب سمجھنے کی کوشش کی اور حضور سے دریافت کیا کہ حضور کونسے دشمن کو نہیں چھوڑیں گے ؟ تو حضور نے فرمایا میرے دشمن وہ ہیں جنہوں نے میرے بچوں کو مارا ہے – چاہتے ہوۓ بھی حضور سے نہ پوچھ سکا کہ حضور آپ ہی کے لاڈلے طالبعلم تھے یہ جو دوسروں کے بچوں کو مارتے تو آپ کہتے تھے اچھے بچے ہیں- میں نے عرض کی حضور اور کونسے دشمن کے بچوں کو پڑھانے کا ارادہ ہے ؟ حضور ہے فرمایا ” جنہوں نے میرے بچوں کو مارا ہے ” -ہ

میری کم عقل میں کچھ سمجھ نہ آیا کہ حضور جب دشمن کو مار دیں گے تو کیا دشمن کے بچے بعد از مرگ پیدا ہوں گے یا پھر حضور دشمن سے دوستی کر رہے ہیں تاکہ دشمن کہ بچے اچھے ڈاکٹر بنیں اور شاید حضور کے گناہوں کا کفارہ ادا ہو سکے -میں نے حضور کو انکی اس مزید دانش پھوڑ حکمت عملی پر زبان کھول کر داد دی کہ حضور واہ واہ اور پھر مزید واہ – ٹاپک بدلنے کو میں نے حضور سے کہا حضور ایک اچھی خبر ہے بولے اچھا سناؤ – میں نے کہا حضور میری یونیورسٹی کا ایگریمنٹ ہوا ہے ایجوکیشنل ایکسچینج کا – حضور بہت خوش ہوۓ کہتے ویلڈن بواۓ – کون کون سی ؟ میں نے کہا وہی آپکی عقل کے مطابق دشمن کی جامعات سے تاکہ دشمن کے بچوں کو پڑھا سکوں – حضور نے پہلو بدلا اور پوچھا کیا مطلب ہے تمہارا ؟ کونسی جامعات سے ہوا ہے ؟ میں جواب دیا پہاڑی یونیورسٹی غرب پور ، جامعہ فلم و سنگیت شرقیہ اور جامعہ سات سمندر پار ابلاغ عامہ -ہ

حضور نے سمجھتے ہوۓ بھی نہ سمجھنے کی اداکاری کرتے ہوۓ فرمایا ” میں سمجھا نہیں ” – میں نے عرض کی حضور آسان سی بات ہے میں وہاں کی جامعات میں وزٹنگ لیکچرز دوں گا اور وہاں سے انکے بچے اور اسٹوڈنٹ یہاں پڑھنے اور ثقافتی دورے پر آئیں گے – اور اس طرح ہمارے اور دشمن کے بچوں کے تعلقات بہتر ہو جایں گے – اور ویسے بھی آپکے والد، چچا، تایا، ماموں، دادا وغیرہ بھی تو ایسا ہی کرتے ہیں اور کئی کئی لاکھ ڈالر کماتے ہیں ریٹائرمنٹ کے بعد- ہ

حضور کے چہرہ مبارک کا رنگ متغیر ہوگیا- اس پھر دھنک کے سارے رنگ جھلملالنے لگے اور اور اور اور آخر میں لال و پیلا رنگ ٹھہر گیا – حضور کے متبرک دہن سے جھاگ بہنے لگا حضور نے اپنی پر جلال آواز میں فرمایا ” گستاخ ، بے ادب ، ہمارے لہو کے غدار ، ہم کماتے نہی ، ہم ریٹائر نہی ہوتے ، ہم پیسے نہی لیتے ، ہم اپنا فرض اپنا لہو گرا کر پورا کرتے ہیں -ونس آ دانش پھوڑ، دانش پھوڑ فار لائف – تم لوگوں کا تو کام ہی ہے دشمنو کی طرفداری کرنا ، تم لوگ ہی ہو جو ملک دشمن ہو ، ملک کے لوگوں کی صحت سے کھیلتے ہو ، فارما کمپنیوں سے پیسے لیتے ہو – ہم تمہارے کسی ثقافتی اور تعلیمی معاہدے کو اہمیت نہی دیتے – ہمیں اس سے وطن دشمنی ، صحت دشمنی کی بو آتی ہے -“ہ

حضور ہمیشہ کی طرح دانش پھوڑنا شروع ہوگئے – اس سے پہلے کے حضور پپو بدمعاش کو بلا کر ہماری طبیعت صاف کرتے ہم کسی طرح وہاں سے کھسک لئے – آپ سب سے بھی درخواست ہے کہ دعا کریں کہ بس حضور کو ہماری کوئی بات بری نہ لگے اور حضور دانش پھوڑ ایف اے پاس صاحب کا دانش پھوڑ کاروبار چلتا رہے – ویسے آپکو کہیں حضور مل جائں تو انسے پوچھنے کی کوشش ضرور کریں کہ حضور دشمن کو مارنا چاہتے ہیں یا اس کے بچوں کو پڑھانا ؟ اور کیسے پڑھاویں گے؟ ایک معمہ ہے نہ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا -ہ

پس از تحریر یہ محض ایک خالی دماغ سے لکھی گئی خیالی تحریر ہے اور اس سے کوئی سبق یا نتیجہ نہی نکلتا – یہاں ایف اے سےمراد فرسٹ ایڈ ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s