شیر شاہ سوری اور جنرل فرینک میسسوری

شیر شاہ سوری کے زمانے کا قصّہ ہے
ایک غریب کا جوان بیٹا قتل ہو گیا، پر قاتل کا کچھ پتا نہ چلا
وہ غریب بادشاہ تک جیسے تیسے پہنچا اور اپنا حال بتایا
بادشاہ نے علاقے کے امیر یا گورنر سے پوچھا تو جواب ملا حضور اتنی بڑی راج دھانی ہے کافی ڈھونڈا پر نہیں پتا چلا
سوری نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ چند دن بعد ایک فرمان جاری کیا کہ ہندوستان میں کوئی بھی درخت نہیں کاٹا جائے گا اور اگر بادشاہ کو پتا چلا کہ کسی بھی علاقے میں کوئی درخت کاٹا گیا ہے تو اس علاقے کے امیر کی گردن مار دی جائے گی .

یہ فرمان جاری کرنے کے بعد بادشاہ نے اس غریب کو ساتھ لیا ایک دو عملدار لئے اور غریب کے علاقے جا ٹہرا-
بھیس بدلا مصاحب کو ساتھ لئے اور رات کے آخری پہر ایک جنگل میں درخت کاٹنا شروع کر دیا ابھی ایک درخت بھی نہ کٹا تھا کہ چاروں طرف سے سپاہی گھوڑے بھگاتے آے اور بادشاہ اور اسکے ساتھی کو گرفتار کر کے لے گئے
صبح جب امیر کہ سامنے بادشاہ بطور قیدی پیش ہوا تو امیر بہت سٹ پٹایا-
بادشاہ نے ایک جملہ کہا تجھے آدھی رات کو کوسوں دور ایک درخت کاٹے جانے کا پتا چل گیا پر ایک انسان کا قاتل نہیں ملا ؟
قصّہ مختصر کچھ ہی دیر میں قاتل پکڑا گیا
شیر شاہ سوری نے قاتل اور امیر دونوں کو خود اپنی تلوار سے قتل کر دیا

بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اگر ١٩٤٨ میں جناح صاحب جنرل فرینک میسسوری کا کورٹ مارشل کر دیتے تو آج نہ بنگال جاتا ، نہ ٦٥ کی جنگ ہوتی نہ ٦٢ میں کشمیر حاصل کرنے کا موقع جاتا اور نہ ہی کراچی ہوائی اڈے کا حملہ ہوتا –

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s